Hum Hain Majrooh Maajra Hai Yeh

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

بود آدم نمود شبنم ہے

ایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ

شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکا

دل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ

شور سے اپنے حشر ہے پردہ

یوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ

بس ہوا ناز ہو چکا اغماض

ہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ

نعشیں اٹھتی ہیں آج یاروں کی

آن بیٹھو تو خوش نما ہے یہ

دیکھ بے دم مجھے لگا کہنے

ہے تو مردہ سا پر بلا ہے یہ

میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہے

کیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ

ہے رے بے گانگی کبھو ان نے

نہ کہا یہ کہ آشنا ہے یہ

تیغ پر ہاتھ دم بہ دم کب تک

اک لگا چک کہ مدعا ہے یہ

میرؔ کو کیوں نہ مغتنم جانے

اگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Ghazal

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

Chhutta hi nahin ho jise aazaar-e-mohabbat

Ghazal

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

Jafaaen dekh liyaan be-wafaaiyaan dekheen

Ghazal

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

Aage jamaal-e-yaar ke mazoor ho gaya

Ghazal

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

Dekhe ga jo tujh-ru ko so hairaan rahe ga

Ghazal

کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ

جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ

Kya moaafiq ho dawa ishq ke beemaar ke saath

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…