Is se pahle ki be-wafa ho jaen

اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں

کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں

تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر

ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں

تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا

ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں

ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں

پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں

ہم اگر منزلیں نہ بن پائے

منزلوں تک کا راستا ہو جائیں

دیر سے سوچ میں ہیں پروانے

راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں

عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا

خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں

اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے

ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں

بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ

کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں

Ahmad Faraz

Ahmad Faraz

احمد فراز

1931–2008

One of the most loved Urdu poets of his age — a master of the ghazal whose voice of love and defiance still echoes.

View Full Profile →

More by Ahmad Faraz

Ghazal

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

Ab ke hum bichhde to shayad kabhi khwabon mein milen

Ghazal

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

Ranjish hi sahi dil hi dukhane ke liye aa

Ghazal

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

Suna hai log use aankh bhar ke dekhte hain

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…