Jab Rone Baithta Hun Tab Kya Kasr Rahe Hai
جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے
رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے
آہ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سے
خورشید کے منہ اوپر اکثر سپر رہے ہے
آگہ تو رہیے اس کی طرز رہ و روش سے
آنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے
ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سے
اب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے
آب حیات کی سی ساری روش ہے اس کی
پر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے
تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنے
خون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے
در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کو
تب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے
آخر کہاں تلک ہم اک روز ہو چکیں گے
برسوں سے وعدۂ شب ہر صبح پر رہے ہے
میرؔ اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کر
کوئی بھی فصل گل میں نادان گھر رہے ہے

MIR TAQI MIR
میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
View Full Profile →More by MIR TAQI MIR
← Previous Ghazal
Lazzat Se Nahin Khaali Jaanon Ka Khapa Jaana
Next Ghazal →
Bani Thi Kuch Ik Us Se Muddat Ke Baad