آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ

جوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا

قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب

دروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا

پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبول

جو تیری صید گاہ سے ٹک دور ہو گیا

دیکھا یہ ناؤ نوش کہ نیش فراق سے

سینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا

اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہ

اب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا

شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ

میری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا

لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہوا

جب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا

دیکھا جو میں نے یار تو وہ میرؔ ہی نہیں

تیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Ghazal

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

Chhutta hi nahin ho jise aazaar-e-mohabbat

Ghazal

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

Jafaaen dekh liyaan be-wafaaiyaan dekheen

Ghazal

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

Dekhe ga jo tujh-ru ko so hairaan rahe ga

Ghazal

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

Hum hain majrooh maajra hai yeh

Ghazal

کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ

جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ

Kya moaafiq ho dawa ishq ke beemaar ke saath

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…