آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے

آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے

کرنا سلوک خوب ہے اہل نیاز سے

پھرتے ہو کیا درختوں کے سائے میں دور دور

کر لو موافقت کسو بے برگ و ساز سے

ہجراں میں اس کے زندگی کرنا بھلا نہ تھا

کوتاہی جو نہ ہووے یہ عمر دراز سے

مانند سبحہ عقدے نہ دل کے کبھو کھلے

جی اپنا کیوں کہ اچٹے نہ روزے نماز سے

کرتا ہے چھید چھید ہمارا جگر تمام

وہ دیکھنا ترا مژۂ نیم باز سے

دل پر ہو اختیار تو ہرگز نہ کریے عشق

پرہیز کریے اس مرض جاں گداز سے

آگے بچھا کے نطع کو لاتے تھے تیغ و طشت

کرتے تھے یعنی خون تو اک امتیاز سے

مانع ہوں کیوں کہ گریۂ خونیں کے عشق میں

ہے ربط خاص چشم کو افشائے راز سے

شاید شراب خانے میں شب کو رہے تھے میرؔ

کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کوفت سے جان لب پہ آئی ہے

Koft se jaan lab pe aayi hai

غزل

ڈھونڈا نہ پائیے جو اس وقت میں سو زر ہے

Dhoonda na paiye jo is waqt mein so zar hai

غزل

ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ

Hum se kuch aage zamane mein hua kya kya kuch

غزل

کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ

Kaash uthein hum bhi gunahgaron ke beech

غزل

دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا

Dair o haram se guzre ab dil hai ghar hamara

غزل

عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا

Aalam mein koi dil ka talabgar na paya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…