آپ بیٹھے ہیں بالیں پہ میری موت کا زور چلتا نہیں ہے

آپ بیٹھے ہیں بالیں پہ میری موت کا زور چلتا نہیں ہے

موت مجھ کو گوارا ہے لیکن کیا کروں دم نکلتا نہیں ہے

یہ ادا یہ نزاکت بھرا سن میرا دل تم پہ قربان لیکن

کیا سنبھالو گے تم میرے دل کو جب یہ آنچل سنبھلتا نہیں ہے

میرے نالوں کی سن کر زبانیں ہو گئی موم کتنی چٹانیں

میں نے پگھلا دیا پتھروں کو اک تیرا دل پگھلتا نہیں ہے

شیخ جی کی نصیحت بھی اچھی بات واعظ کی بھی خوب لیکن

جب بھی چھاتی ہیں کالی گھٹائیں بن پئے کام چلتا نہیں ہے

دیکھ لے میری میت کا منظر لوگ کاندھا بدلتے چلے ہیں

ایک تیری بھی ڈولی چلی ہے کوئی کاندھا بدلتا نہیں ہے

میکدے کے سبھی پینے والے لڑکھڑا کر سنبھلتے ہیں لیکن

تیری نظروں کا جو جام پی لے عمر بھر وہ سنبھلتا نہیں ہے

FANA BULANDSHAHRI

FANA BULANDSHAHRI

فنا بلند شہری

Beloved Sufi poet of Urdu, best known for the immortal couplet "Mere Rashk-e-Qamar" — verses of love and devotion that still move listeners across generations.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از FANA BULANDSHAHRI

Ghazal

دل بتوں پہ نثار کرتے ہیں

کفر کو پائیدار کرتے ہیں

Dil buton pe nisaar karte hain

Ghazal

ہے وجہ کوئی خاص مری آنکھ جو نم ہے

بس اتنا سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا کرم ہے

Hai wajah koi khaas meri aankh jo nam hai

Ghazal

آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں

ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں

Aankh uthi mohabbat ne angrai li, dil ka sauda hua chandni raat mein

Ghazal

ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے

سچ بتاؤ کہ اس چاندنی رات میں کس سے وعدہ کیا ہے کہاں جاؤ گے

Hai kahan ka irada tumhara sanam, kis ke dil ko adaaon se behlaoge

Ghazal

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا

برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا

Mere rashk-e-qamar tu ne pahli nazar jab nazar se milai maza aa gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…