دیدۂ حیراں نے تماشا کیا

دیدۂ حیراں نے تماشا کیا

دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا

ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیا

حوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا

آنکھ نہ لگنے سے شب احباب نے

آنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا

مر گئے اس کے لب جاں بخش پر

ہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا

بجھ گئی اک آہ میں شمع حیات

مجھ کو دم سرد نے ٹھنڈا کیا

غیر عیادت سے برا مانتے

قتل کیا آن کے اچھا کیا

ان سے پری وش کو نہ دیکھے کوئی

مجھ کو مری شرم نے رسوا کیا

زندگیٔ ہجر بھی اک موت تھی

مرگ نے کیا کار مسیحا کیا

پان میں یہ رنگ کہاں آپ نے

آپ مرے خون کا دعویٰ کیا

جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہے

راز مرا صبر نے افشا کیا

کچھ بھی بن آتی نہیں کیا کیجیے

اس کے بگڑنے نے کچھ ایسا کیا

جائے تھی تیری مرے دل میں سو ہے

غیر سے کیوں شکوۂ بے جا کیا

رحم فلک اور مرے حال پر

تو نے کرم اے ستم آرا کیا

سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولے

مرگ نے کب وعدۂ فردا کیا

دعویٔ تکلیف سے جلاد نے

روز جزا قتل پھر اپنا کیا

مرگ نے ہجراں میں چھپایا ہے منہ

لو منہ اسی پردہ نشیں کا کیا

دشمن مومنؔ ہی رہے بت سدا

مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

Maar hi daal mujhe chashm-e-ada se pehle

Ghazal

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

Lage khadang jab is naala-e-sehar ka sa

Ghazal

ہوئی تاثیر آہ و زاری کی

رہ گئی بات بے قراری کی

Hui taaseer-e-aah-o-zaari ki

Ghazal

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

Jyon nakhwat-e-gul jumbish hai ji ka nikal jaana

Ghazal

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

Hum rang-e-laaghari se hun gul ki shameem ka

Ghazal

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

Ta na pare khalal kahin aap ke khwaab-e-naaz mein

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…