جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

آہ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سے

خورشید کے منہ اوپر اکثر سپر رہے ہے

آگہ تو رہیے اس کی طرز رہ و روش سے

آنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے

ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سے

اب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے

آب حیات کی سی ساری روش ہے اس کی

پر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے

تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنے

خون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے

در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کو

تب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے

آخر کہاں تلک ہم اک روز ہو چکیں گے

برسوں سے وعدۂ شب ہر صبح پر رہے ہے

میرؔ اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کر

کوئی بھی فصل گل میں نادان گھر رہے ہے

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Ghazal

شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت

مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت

Sher ke parde mein main ne gham sunaaya hai bahut

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…