تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جا
تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جا
مری زندگی کے مالک مری زندگی میں آ جا
نہ غرض صنم کدے سے نہ حرم سے کوئی مطلب
مجھے واسطہ ہے تجھ سے مرے دل میں تو سما جا
تو بچھڑ گیا ہے جب سے مری نیند اڑ گئی ہے
تری راہ تک رہا ہوں مرے چاند اب تو آ جا
مجھے درد دے کے اپنا تو کہاں چھپا ہے جا کر
مرا دل چرانے والے مجھے شکل تو دکھا جا
ترا درد بن گیا ہے مری زندگی کا حاصل
مرے دل پہ ہاتھ رکھ دے ذرا حوصلہ بڑھا جا
مجھے آ کے دے سہارا یہ قدم نہ ڈگمگائیں
کہیں میں بھٹک نہ جاؤں مجھے راستہ دکھا جا
مرے نام کی نشانی نہ رہے جہاں میں باقی
مری جان لینے والے مری قبر بھی مٹا جا
ترے حسن پہ فدا ہوں ترے عشق میں فنا ہوں
مجھے تیری آرزو ہے مری خلوتوں میں آ جا

FANA BULANDSHAHRI
فنا بلند شہری
Beloved Sufi poet of Urdu, best known for the immortal couplet "Mere Rashk-e-Qamar" — verses of love and devotion that still move listeners across generations.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از FANA BULANDSHAHRI
پچھلی غزل →
یوں نہ آنکھیں بدل مجھ سے میرے صنم میں ترے در سے اٹھ کر کہاں جاؤں گا
← اگلی غزل
دل بتوں پہ نثار کرتے ہیں