وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا

وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا

جو دوست ہمارا ہے سو دشمن ہے ہمارا

یہ کاہ ربا سے بھی ہیں کم اے کشش دل

مذکور کچھ ایسا پس چلمن ہے ہمارا

افسوس موئے شمع شب وصل کی مانند

جو قہقہہ شادی ہے سو شیون ہے ہمارا

مہتاب کا کیا رنگ کیا دود فغاں نے

احوال شب تار سے روشن ہے ہمارا

دیتا نہیں اس ضعف پہ بھی جوش جنوں چین

ہر ریگ رواں دشت میں توسن ہے ہمارا

تفریح نہ کیونکر ہو ہوا آ نہیں سکتی

گویا در و دیوار نشیمن ہے ہمارا

گر پاس ہے لوگوں کا تو آ جا کہ قلق سے

ہے لاش کہیں اور کہیں مدفن ہے ہمارا

جذب دل اسے کھینچ کے لائے تو کہاں لائے

جو غیر کا گھر ہے وہی مسکن ہے ہمارا

بت خانے سے کعبے کو چلے رشک کے مارے

مومنؔ خضر راہ برہمن ہے ہمارا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

Maar hi daal mujhe chashm-e-ada se pehle

Ghazal

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

Lage khadang jab is naala-e-sehar ka sa

Ghazal

ہوئی تاثیر آہ و زاری کی

رہ گئی بات بے قراری کی

Hui taaseer-e-aah-o-zaari ki

Ghazal

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

Jyon nakhwat-e-gul jumbish hai ji ka nikal jaana

Ghazal

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

Hum rang-e-laaghari se hun gul ki shameem ka

Ghazal

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

Ta na pare khalal kahin aap ke khwaab-e-naaz mein

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…