یار نے ہم سے بے ادائی کی

یار نے ہم سے بے ادائی کی

وصل کی رات میں لڑائی کی

بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ

اب توقع نہیں رہائی کی

کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی

میں دوا کی بہت شفائی کی

طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب

دھوم ہے اس کی رہ گرائی کی

خندۂ یار سے طرف ہو کر

برق نے اپنی جگ ہنسائی کی

کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میں

دیکھ کر کیا یہ آشنائی کی

وصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچا

شب نہ آخر ہوئی جدائی کی

منہ لگایا نہ دختر رز کو

میں جوانی میں پارسائی کی

جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچے

عمر نے سخت بے وفائی کی

کوہ کن کیا پہاڑ توڑے گا

عشق نے زور آزمائی کی

چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہے

دیر واں ہم نے بے نوائی کی

اک نگہ میں ہزار جی مارے

ساحری کی کہ دل ربائی کی

نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئی

برسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی

میرؔ کی بندگی میں جاں بازی

سیر سی ہو گئی خدائی کی

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

عام حکم شراب کرتا ہوں

محتسب کو کباب کرتا ہوں

Aam hukm-e-sharab karta hoon

غزل

عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا

آخر اب دوری میں جی جاتا رہا

Ishq kya kya aafatein laata raha

غزل

غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا

یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا

Gham us ko sari raat sunaya to kya hua

غزل

جس جگہ دور جام ہوتا ہے

واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے

Jis jagah daur-e-jaam hota hai

غزل

غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے

یہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے

Ghalib ke yeh dil-e-khasta shab-e-hijr mein mar jaye

غزل

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…