aag ashk-e-garm ko lage ji kya hi jal gaya

آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا

آنسو چو اس نے پونچھے شب اور ہاتھ پھل گیا

پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا

جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا

کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو

واں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا

کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں

غیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا

اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی

کوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا

جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی

آیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل

میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے

مجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا

مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک

گل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا

بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے

مومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

View Full Profile →

More by Momin Khan Momin

Ghazal

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

Maar hi daal mujhe chashm-e-ada se pehle

Ghazal

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

Lage khadang jab is naala-e-sehar ka sa

Ghazal

ہوئی تاثیر آہ و زاری کی

رہ گئی بات بے قراری کی

Hui taaseer-e-aah-o-zaari ki

Ghazal

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

Jyon nakhwat-e-gul jumbish hai ji ka nikal jaana

Ghazal

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

Hum rang-e-laaghari se hun gul ki shameem ka

Ghazal

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

Ta na pare khalal kahin aap ke khwaab-e-naaz mein

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…