Dard-o-Andoh Mein Thahra Jo Raha Main Hi Hun

درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں

رنگ رو جس کے کبھو منہ نہ چڑھا میں ہی ہوں

جس پہ کرتے ہو سدا جور و جفا میں ہی ہوں

پھر بھی جس کو ہے گماں تم سے وفا میں ہی ہوں

بد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئی

کیوں ہے بخشو بھی بھلا سب میں برا میں ہی ہوں

اپنے کوچے میں فغاں جس کی سنو ہو ہر رات

وہ جگر سوختہ و سینہ جلا میں ہی ہوں

خار کو جن نے لڑی موتی کی کر دکھلایا

اس بیابان میں وہ آبلہ پا میں ہی ہوں

لطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفا

اتنا عالم ہے بھرا جاؤ نہ کیا میں ہی ہوں

رک کے جی ایک جہاں دوسرے عالم کو گیا

تن تنہا نہ ترے غم میں ہوا میں ہی ہوں

اس ادا کو تو ٹک اک سیر کر انصاف کرو

وہ برا ہے گا بھلا دوستو یا میں ہی ہوں

میں یہ کہتا تھا کہ دل جن نے لیا کون ہے وہ

یک بیک بول اٹھا اس طرف آ میں ہی ہوں

جب کہا میں نے کہ تو ہی ہے تو پھر کہنے لگا

کیا کرے گا تو مرا دیکھوں تو جا میں ہی ہوں

سنتے ہی ہنس کے ٹک اک سوچیو کیا تو ہی تھا

جن نے شب رو کے سب احوال کہا میں ہی ہوں

میرؔ آوارۂ عالم جو سنا ہے تو نے

خاک آلودہ وہ اے باد صبا میں ہی ہوں

کاسۂ سر کو لیے مانگتا دیدار پھرے

میرؔ وہ جان سے بیزار گدا میں ہی ہوں

Mir — Poet

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Ghazal

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

Chhutta hi nahin ho jise aazaar-e-mohabbat

Ghazal

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

Jafaaen dekh liyaan be-wafaaiyaan dekheen

Ghazal

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

Aage jamaal-e-yaar ke mazoor ho gaya

Ghazal

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

Dekhe ga jo tujh-ru ko so hairaan rahe ga

Ghazal

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

Hum hain majrooh maajra hai yeh

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…