ejaz-e-jaan-dahi hai hamare kalam ko

اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو

لکھو سلام غیر کے خط میں غلام کو

بندے کا بس سلام ہے ایسے سلام کو

اب شور ہے مثال جو دی اس خرام کو

یوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو

آتا ہے بہر قتل وہ دور اے ہجوم یاس

گھبرا نہ جائے دیکھ کہیں ازدحام کو

گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے

مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

یاں وصل ہے تلافی ہجراں میں اے فلک

کیوں سوچتا ہے تازہ ستم انتقام کو

تیرے سمند ناز کی بے جا شرارتیں

کرتے ہیں آگ نالۂ اندیشہ کام کو

گریے پہ میرے زندہ دلو ہنستے کیا ہو آہ

روتا ہوں اپنے میں دل جنت مقام کو

سہ سہ کے نادرست تری خو بگاڑ دی

ہم نے خراب آپ کیا اپنے کام کو

اس سے جلا کے غیر کو امید پختگی

لگ جائے آگ دل کے خیالات خام کو

بخت سپید آئنہ داری کرے تو میں

دکھلاؤں دل کے جور اس آئینہ فام کو

جب تو چلے جنازۂ عاشق کے ساتھ ساتھ

پھر کون وارثوں کے سنے اذن عام کو

شاید کہ دن پھرے ہیں کسی تیرہ روز کے

اب غیر اس گلی میں نہیں پھرتے شام کو

مدت سے نام سنتے تھے مومنؔ کا بارے آج

دیکھا بھی ہم نے اس شعرا کے امام کو

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

View Full Profile →

More by Momin Khan Momin

Ghazal

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

Maar hi daal mujhe chashm-e-ada se pehle

Ghazal

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

Lage khadang jab is naala-e-sehar ka sa

Ghazal

ہوئی تاثیر آہ و زاری کی

رہ گئی بات بے قراری کی

Hui taaseer-e-aah-o-zaari ki

Ghazal

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

Jyon nakhwat-e-gul jumbish hai ji ka nikal jaana

Ghazal

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

Hum rang-e-laaghari se hun gul ki shameem ka

Ghazal

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

Ta na pare khalal kahin aap ke khwaab-e-naaz mein

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…