Kuch To Kah Wasl Ki Phir Raat Chali Jati Hai

کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے

دن گزر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے

رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پر

بارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے

ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جان

عمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے

یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چال

اور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے

روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف

عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے

شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ

یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے

خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیں

شیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے

ہے مؤذن جو بڑا مرغ مصلی اس کی

مستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے

پاؤں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھی

مرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے

ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میرؔ

یوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

Ghazal

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

Ghazal

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

Ghazal

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

Ghazal

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

Ghazal

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…