Ya Rab Koi Ho Ishq Ka Bimar Na Howe

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائے

پر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے

اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد

یہ باؤ کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے

صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سے

کوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے

پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہمارا

شرمندۂ یک گوشۂ دستار نہ ہووے

مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالم

یا رب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے

کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہی

صورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے

ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن

بہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے

خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکورو

بے جرم کہیں ان کا گنہ گار نہ ہووے

باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کو

یہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے

چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو

پر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے

صحرائے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میرؔ

یہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

Ghazal

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

Ghazal

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

Ghazal

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

Ghazal

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Ghazal

تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا

بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا

Tera rukh mukhattat quran hai hamara

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…