Tera Rukh Mukhattat Quran Hai Hamara

تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا

بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا

گر ہے یہ بے قراری تو رہ چکا بغل میں

دو روز دل ہمارا مہمان ہے ہمارا

ہیں اس خراب دل سے مشہور شہر خوباں

اس ساری بستی میں گھر ویران ہے ہمارا

مشکل بہت ہے ہم سا پھر کوئی ہاتھ آنا

یوں مارنا تو پیارے آسان ہے ہمارا

ادریس و خضر و عیسیٰ قاتل سے ہم چھڑائے

ان خوں گرفتگاں پر احسان ہے ہمارا

ہم وے ہیں سن رکھو تم مر جائیں رک کے یکجا

کیا کوچہ کوچہ پھرنا عنوان ہے ہمارا

ہیں صید گہ کے میری صیاد کیا نہ دھڑکے

کہتے ہیں صید جو ہے بے جان ہے ہمارا

کرتے ہیں باتیں کس کس ہنگامے کی یہ زاہد

دیوان حشر گویا دیوان ہے ہمارا

خورشید رو کا پرتو آنکھوں میں روز ہے گا

یعنی کہ شرق رویہ دالان ہے ہمارا

ماہیت دو عالم کھاتی پھرے ہے غوطے

یک قطرہ خون یہ دل طوفان ہے ہمارا

نالے میں اپنے ہر شب آتے ہیں ہم بھی پنہاں

غافل تری گلی میں مندان ہے ہمارا

کیا خانداں کا اپنے تجھ سے کہیں تقدس

روح القدس اک ادنیٰ دربان ہے ہمارا

کرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوے

گھر کا مشیر کتنا نادان ہے ہمارا

جی جا نہ آہ ظالم تیرا ہی تو ہے سب کچھ

کس منہ سے پھر کہیں جی قربان ہے ہمارا

بنجر زمین دل کی ہے میرؔ ملک اپنی

پر داغ سینہ مہر فرمان ہے ہمارا

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

Ghazal

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

Ghazal

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

Ghazal

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

Ghazal

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

Ghazal

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…