Rahi Nagufta Mere Dil Mein Daastaan Meri
رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری
نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا
خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری
ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس
ہزار جائے گئی طبع بدگماں میری
وہ نقش پئے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میں
نہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہے گی رہ رواں میری
شب اس کے کوچے میں جاتا ہوں اس توقع پر
کہ ایک دوست ہے واں خواب پاسباں میری
اسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھا
گئی یہ عمر عزیز آہ رائیگاں میری
ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کا
گئی ہے فکر پریشاں کہاں کہاں میری
نہیں ہے تاب و تواں کی جدائی کا اندوہ
کہ ناتوانی بہت ہے مزاج داں میری
رہا میں در پس دیوار باغ مدت لیک
گئی گلوں کے نہ کانوں تلک فغاں میری
ہوا ہوں گریۂ خونیں کا جب سے دامن گیر
نہ آستین ہوئی پاک دوستاں میری
دیا دکھائی مجھے تو اسی کا جلوہ میرؔ
پڑی جہان میں جا کر نظر جہاں میری

MIR TAQI MIR
میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
View Full Profile →More by MIR TAQI MIR
← Previous Ghazal
Munh Taka Hi Kare Hai Jis Tas Ka
Next Ghazal →
Jin Jin Ko Tha Yeh Ishq Ka Aazaar Mar Gaye