Zakhm Jhele Daagh Bhi Khaaye Bahut
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے
ہم تو اپنی اور سے آئے بہت
دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹک
ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
گر بکا اس شور سے شب کو ہے تو
روویں گے سونے کو ہم سایے بہت
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب
رشک سے گل پھول مرجھائے بہت
میرؔ سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم
ہو کے کچھ چپکے سے شرمائے بہت

MIR TAQI MIR
میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
View Full Profile →More by MIR TAQI MIR
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…