آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا

اس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

سمجھی نہ باد صبح کہ آ کر اٹھا دیا

اس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا

پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج

بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا

اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ

پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا

تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے

دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا

سب شور ما و من کو لیے سر میں مر گئے

یاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا

آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں

مشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا

اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہہ گئے

آخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا

کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ تالا جو تھے درست

ہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا

گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا

اس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا

مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک

جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا

ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں

دل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا

بوئے کباب سوختہ آئی دماغ میں

شاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا

تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کی

درد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا

ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میرؔ

ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا

میر — شاعر

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Ghazal

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

Chhutta hi nahin ho jise aazaar-e-mohabbat

Ghazal

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

Jafaaen dekh liyaan be-wafaaiyaan dekheen

Ghazal

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

Aage jamaal-e-yaar ke mazoor ho gaya

Ghazal

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

Dekhe ga jo tujh-ru ko so hairaan rahe ga

Ghazal

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

Hum hain majrooh maajra hai yeh

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…