آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں

آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں

پیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میں

نازک بدن ہے کتنا وہ شوخ چشم دلبر

جان اس کے تن کے آگے آتی نہیں نظر میں

سینے میں تیر اس کے ٹوٹے ہیں بے نہایت

سوراخ پڑ گئے ہیں سارے مرے جگر میں

آئندہ شام کو ہم رویا کڑھا کریں گے

مطلق اثر نہ دیکھا نالیدن سحر میں

بے سدھ پڑا رہوں ہوں اس مست ناز بن میں

آتا ہے ہوش مجھ کو اب تو پہر پہر میں

سیرت سے گفتگو ہے کیا معتبر ہے صورت

ہے ایک سوکھی لکڑی جو بو نہ ہو اگر میں

ہمسایۂ مغاں میں مدت سے ہوں چنانچہ

اک شیرہ خانے کی ہے دیوار میرے گھر میں

اب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوے

رہتا ہے کچھ جھمکتا خوناب چشم تر میں

عالم میں آب و گل کے کیونکر نباہ ہوگا

اسباب گر پڑا ہے سارا مرا سفر میں

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…