اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

مشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا

تاثیر بیقراری ناکام آفریں

ہے کام ان سے شوخ شمائل کو تھامنا

دیکھے ہے چاندنی وہ زمیں پر نہ گر پڑے

اے چرخ اپنے تو مہ کامل کو تھامنا

مضطر ہوں کس کا طرز سخن سے سمجھ گیا

اب ذکر کیا ہے سامع عاقل کو تھامنا

ہو صرصر فغاں سے نہ کیونکر وہ مضطرب

مشکل ہوا ہے پردۂ محمل کو تھامنا

سیکھے ہیں مجھ سے نالۂ نے آسماں شکن

صیاد اب قفس میں عنادل کو تھامنا

یہ زلف خم بہ خم نہ ہو کیا تاب غیر ہے

تیرے جنوں زدے کی سلاسل کو تھامنا

اے ہمدم آہ تلخی ہجراں سے دم نہیں

گرتا ہے دیکھ جام ہلاہل کو تھامنا

سیماب وار مر گئے ضبط قلق سے ہم

کیا قہر ہے طبیعت مائل کو تھامنا

آغوش گور ہو گئی آخر لہولہان

آساں نہیں ہے آپ کے بسمل کو تھامنا

سینہ پہ ہاتھ دھرتے ہی کچھ دم پہ بن گئی

لو جان کا عذاب ہوا دل کو تھامنا

باقی ہے شوق چاک گریباں ابھی مجھے

بس اے رفوگر اپنی انامل کو تھامنا

مت مانگیو امان بتوں سے کہ ہے حرام

مومنؔ زبان بیہودہ سائل کو تھامنا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…