گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کے

قاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا

کرتے جو مجھے یاد شب وصل عدو تم

کیا صبح کہ خورشید نہ تا شام نکلتا

جب جانتے تاثیر کہ دشمن بھی وہاں سے

اپنی طرح اے گردش ایام نکلتا

ہر ایک سے اس بزم میں شب پوچھتے تھے نام

تھا لطف جو کوئی مرا ہم نام نکلتا

کیوں کام طلب ہے مرے آزار سے گردوں

ناکام سے دیکھا ہے کہیں کام نکلتا

تھی نوحہ زنی دل کے جنازے پہ ضروری

شاید کہ وہ گھبرا کے سر بام نکلتا

کانٹا سا کھٹکتا ہے کلیجے میں غم ہجر

یہ خار نہیں دل سے گل اندام نکلتا

حوریں نہیں مومنؔ کے نصیبوں میں جو ہوتیں

بت خانے ہی سے کیوں یہ بد انجام نکلتا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Ghazal

اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

مشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا

Ae aarzoo-e-qatl zara dil ko thaamnaa

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…