دل بیتاب آفت ہے بلا ہے

دل بیتاب آفت ہے بلا ہے

جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے

ہمارا تو ہے اصل مدعا تو

خدا جانے ترا کیا مدعا ہے

محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاس

ہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے

حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیب

اگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے

نہیں ملتا سخن اپنا کسو سے

ہمارا گفتگو کا ڈھب جدا ہے

کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھر

فضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے

مروں میں اس میں یا رہ جاؤں جیتا

یہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے

صبا اودھر گل اودھر سرو اودھر

اسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے

تماشا کردنی ہے داغ سینہ

یہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے

ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیں

قیامت جیسے اک اس کی ادا ہے

جگہ افسوس کی ہے بعد چندے

ابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے

جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تم

کہو جو کچھ تمہارا مدعا ہے

سخن کریے تو ہووے حرف زن یوں

بس اب منہ موند لے میں نے سنا ہے

کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالم

اگرچہ یار عالم آشنا ہے

نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر

پہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے

لگا میں گرد سر پھرنے تو بولا

تمہارا میرؔ صاحب سرپھرا ہے

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…