غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

زباں سے ہماری ہے صیاد خوش

ہمیں اب امید رہائی نہیں

کتابت گئی کب کہ اس شوخ نے

بنا اس کی گڈی اڑائی نہیں

نسیم آئی میرے قفس میں عبث

گلستاں سے دو پھول لائی نہیں

مری دل لگی اس کے رو سے ہی ہے

گل تر سے کچھ آشنائی نہیں

نوشتے کی خوبی لکھی کب گئی

کتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں

جدا رہتے برسوں ہوئے کیونکہ یہ

کنایہ نہیں بے ادائی نہیں

گلہ ہجر کا سن کے کہنے لگا

ہمارے تمہارے جدائی نہیں

سیہ طالعی میری ظاہر ہے اب

نہیں شب کہ اس سے لڑائی نہیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

غزل

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

غزل

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

غزل

تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا

بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا

Tera rukh mukhattat quran hai hamara

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…