ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے

عمر نے ہم سے بے وفائی کی

وصل کے دن کی آرزو ہی رہی

شب نہ آخر ہوئی جدائی کی

اسی تقریب اس گلی میں رہے

منتیں ہیں شکستہ پائی کی

دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر

آہ نے آہ نارسائی کی

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی

زور و زر کچھ نہ تھا تو بار میرؔ

کس بھروسے پر آشنائی کی

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

غزل

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

غزل

تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا

بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا

Tera rukh mukhattat quran hai hamara

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…