ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں

ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں

اپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں

عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا

اس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں

صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانے

اہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں

عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارے

ناچیز جانتے ہیں نا بود جانتے ہیں

اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھے

اس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں

یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا

راہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں

یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباں

بد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں

کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کا

مجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں

مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہ

جی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…