ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
جن کی خاطر کی استخواں شکنی
سو ہم ان کے نشان تیر ہوئے
نہیں آتے کسو کی آنکھوں میں
ہو کے عاشق بہت حقیر ہوئے
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں
ان دنوں تم بہت شریر ہوئے
اپنے روتے ہی روتے صحرا کے
گوشے گوشے میں آب گیر ہوئے
ایسی ہستی عدم میں داخل ہے
نے جواں ہم نہ طفل شیر ہوئے
ایک دم تھی نمود بود اپنی
یا سفیدی کی یا اخیر ہوئے
یعنی مانند صبح دنیا میں
ہم جو پیدا ہوئے سو پیر ہوئے
مت مل اہل دول کے لڑکوں سے
میرؔ جی ان سے مل فقیر ہوئے

MIR TAQI MIR
میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از MIR TAQI MIR
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…