عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا

عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا

جی کا جانا ٹھہر رہا ہے صبح گیا یا شام گیا

عشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیا

دل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا

کس کس اپنی کل کو رووے ہجراں میں بے کل اس کا

خواب گئی ہے تاب گئی ہے چین گیا آرام گیا

آیا یاں سے جانا ہی تو جی کا چھپانا کیا حاصل

آج گیا یا کل جاوے گا صبح گیا یا شام گیا

ہائے جوانی کیا کیا کہیے شور سروں میں رکھتے تھے

اب کیا ہے وہ عہد گیا وہ موسم وہ ہنگام گیا

گالی جھڑکی خشم و خشونت یہ تو سر دست اکثر ہیں

لطف گیا احسان گیا انعام گیا اکرام گیا

لکھنا کہنا ترک ہوا تھا آپس میں تو مدت سے

اب جو قرار کیا ہے دل سے خط بھی گیا پیغام گیا

نالۂ میرؔ سواد میں ہم تک دوشیں شب سے نہیں آیا

شاید شہر سے اس ظالم کے عاشق وہ بدنام گیا

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…