کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے

کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے

دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے

دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیے

عاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے

دل عشق تیری نذر کیا جان کیونکہ دوں

رکھا ہے اس کو حسرت دیدار کے لیے

قتل اس نے جرم صبر جفا پر کیا مجھے

یہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لیے

لے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ اب

تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لیے

آتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دے

تسکین اضطراب دل زار کے لیے

کیا دل دیا تھا اس لیے میں نے تمہیں کہ تم

ہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لیے

چلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدم

طرز خرام و شوخئ رفتار کے لیے

جی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوں

اظہار حال چشم گہربار کے لیے

دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثال

بوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے

جینا امید وصل پہ ہجراں میں سہل تھا

مرتا ہوں زندگانیٔ دشوار کے لیے

مومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بت

ڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لیے

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…