مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا

مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا

جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا

دیکھا ہو کچھ اس آمد و شد میں تو میں کہوں

خود گم ہوا ہوں بات کی تہہ اب جو پا گیا

کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوں

مانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا

جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میں

یک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا

وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سے

جوں جوں نیاز کر کے میں اس سے لگا گیا

جور سپہر دوں سے برا حال تھا بہت

میں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا

دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسے

پھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا

بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میرؔ

صف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…