الٹے وہ شکوے کرتے ہیں

الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ

بے طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ

بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ

دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ

بے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتے

اٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ

وہ لالہ رو گیا نہ ہو گلگشت باغ کو

کچھ رنگ بوئے گل کے عوض ہے صبا کے ساتھ

اس کی گلی کہاں یہ تو کچھ باغ خلد ہے

کس جاے مجھ کو چھوڑ گئی موت لا کے ساتھ

آتی ہے بوئے داغ شب تار ہجر میں

سینہ بھی چاک ہو نہ گیا ہو قبا کے ساتھ

گلبانگ کس کا مشورۂ قتل ہو گیا

کچھ آج بوئے خوں ہے وہاں کی ہوا کے ساتھ

تھے وعدے سے پھر آنے کے خوش یہ خبر نہ تھی

ہے اپنی زندگانی اسی بے وفا کے ساتھ

کوچہ سے اپنے غیر کا منہ ہے مٹا سکے

عاشق کا سر لگا ہے ترے نقش پا کے ساتھ

اللہ رے گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر

مومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…