Chal Pare Hat Mujhe Na Dikhla Munh
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ
اے شب ہجر تیرا کالا منہ
آرزوئے نظارہ تھی تو نے
اتنی ہی بات پر چھپایا منہ
دشمنوں سے بگڑ گئی تو بھی
دیکھتے ہی مجھے بنایا منہ
بات پوری بھی منہ سے نکلی نہیں
آپ نے گالیوں پہ کھولا منہ
ہو گیا راز عشق بے پردہ
اس نے پردے سے جو نکالا منہ
شب غم کا بیان کیا کیجئے
ہے بڑی بات اور چھوٹا منہ
جب کہا یار سے دکھا صورت
ہنس کے بولا کہ دیکھو اپنا منہ
کس کو خون جگر پلائے گا
ساغر مے کو کیوں لگایا منہ
پھر گئی آنکھ مثل قبلہ نما
جس طرف اس صنم نے پھیرا منہ
گھر میں بیٹھے تھے کچھ اداس سے وہ
بولے بس دیکھتے ہی میرا منہ
ہم بھی غمگین سے ہیں آج کہیں
صبح اٹھے تھے دیکھ تیرا منہ
سنگ اسود نہیں ہے چشم بتاں
بوسہ مومنؔ طلب کرے کیا منہ

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
View Full Profile →More by Momin Khan Momin
← Previous Ghazal
Gar Ghair Ke Ghar Se Na Dil Aaraam Nikalta
Next Ghazal →
Dil Mein Us Shokh Ke Jo Raah Na Ki