Dil Mein Us Shokh Ke Jo Raah Na Ki
دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی
ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی
پردہ پوشی ضرور تھی اے چرخ
کیوں شب بوالہوس سیاہ نہ کی
تشنہ لب ایسے ہم گرے مے پر
کہ کبھی سیر عید گاہ نہ کی
اس کو دشمن سے کیا بچائے وہ چرخ
جس نے تدبیر خسف ماہ نہ کی
کون ایسا کہ اس سے پوچھے کیوں
پرسش حال داد خواہ نہ کی
تھا بہت شوق وصل تو نے تو
کمی اے حسن تاب گاہ نہ کی
عشق میں کام کچھ نہیں آتا
گر نہ کی حرص و مال و جاہ نہ کی
تاب کم ظرف کو کہاں تم نے
دشمنی کی عدو سے چاہ نہ کی
میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے
تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی
محتسب یہ ستم غریبوں پر
کبھی تنبیہ بادشاہ نہ کی
گریہ و آہ بے اثر دونوں
کس نے کشتی مری تباہ نہ کی
تھا مقدر میں اس سے کم ملنا
کیوں ملاقات گاہ گاہ نہ کی
دیکھ دشمن کو اٹھ گیا بے دید
میرے احوال پر نگاہ نہ کی
مومنؔ اس ذہن بے خطا پر حیف
فکر آمرزش گناہ نہ کی

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
View Full Profile →