Dil Mein Us Shokh Ke Jo Raah Na Ki

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

پردہ پوشی ضرور تھی اے چرخ

کیوں شب بوالہوس سیاہ نہ کی

تشنہ لب ایسے ہم گرے مے پر

کہ کبھی سیر عید گاہ نہ کی

اس کو دشمن سے کیا بچائے وہ چرخ

جس نے تدبیر خسف ماہ نہ کی

کون ایسا کہ اس سے پوچھے کیوں

پرسش حال داد خواہ نہ کی

تھا بہت شوق وصل تو نے تو

کمی اے حسن تاب گاہ نہ کی

عشق میں کام کچھ نہیں آتا

گر نہ کی حرص و مال و جاہ نہ کی

تاب کم ظرف کو کہاں تم نے

دشمنی کی عدو سے چاہ نہ کی

میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے

تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

محتسب یہ ستم غریبوں پر

کبھی تنبیہ بادشاہ نہ کی

گریہ و آہ بے اثر دونوں

کس نے کشتی مری تباہ نہ کی

تھا مقدر میں اس سے کم ملنا

کیوں ملاقات گاہ گاہ نہ کی

دیکھ دشمن کو اٹھ گیا بے دید

میرے احوال پر نگاہ نہ کی

مومنؔ اس ذہن بے خطا پر حیف

فکر آمرزش گناہ نہ کی

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

View Full Profile →

More by Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Ghazal

اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

مشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا

Ae aarzoo-e-qatl zara dil ko thaamnaa

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…