جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا

جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا

تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہوگا

غم ہجر رکھے گا بے تاب دل کو

ہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہوگا

جو افراط الفت ہے ایسا تو عاشق

کوئی دن میں برسوں کا بیمار ہوگا

اچٹتی ملاقات کب تک رہے گی

کبھو تو تہ دل سے بھی یار ہوگا

تجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جانا

کہ اس سنگ دل سے ہمیں پیار ہوگا

لگا کرنے ہجران سختی سے سختی

خدا جانے کیا آخر کار ہوگا

یہی ہوگا کیا ہوگا میرؔ ہی نہ ہوں گے

جو تو ہوگا بے یار غم خوار ہوگا

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دل گئے آفت آئی جانوں پر

یہ فسانہ رہا زبانوں پر

Dil gaye aafat aayi jaanon par

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

غزل

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…