غزل1 منٹ کا مطالعہ

کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا

کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا

کون سے درد و ستم کا یہ طرف دار نہ تھا

آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ

آئنہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا

دھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیں

تیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا

صد گلستاں تا یک بال تھے اس کے جب تک

طائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا

حیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہ

بے گنہ مارنے قابل یہ گنہ گار نہ تھا

عشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہ

یوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا

نرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضا

سنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا

رات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میرؔ

درد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

Jab se is be-wafa ne baal rakhe

غزل

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

Juz jurm-e-ishq koi bhi sabit kiya gunah

غزل

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

Joshish-e-ashk se hoon aath pehar paani mein

غزل

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

Hain baad mere marg ke aasar se ab tak

غزل

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

Dil pur khoon hai yahan tujh ko gumaan hai sheesha

غزل

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

Daman-e-koh mein jo main daarh maar roya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…