غزل1 منٹ کا مطالعہ
کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا
کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا
کون سے درد و ستم کا یہ طرف دار نہ تھا
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ
آئنہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا
دھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیں
تیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا
صد گلستاں تا یک بال تھے اس کے جب تک
طائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا
حیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہ
بے گنہ مارنے قابل یہ گنہ گار نہ تھا
عشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہ
یوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا
نرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضا
سنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا
رات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میرؔ
درد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا

میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از میر تقی میر
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…