غزل1 منٹ کا مطالعہ

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

ضبط گریہ نے جلایا ہے درونہ سارا

دل اچنبھا ہے کہ ہے سوختہ تر پانی میں

آب شمشیر قیامت ہے برندہ اس کی

یہ گوارائی نہیں پاتے ہیں ہر پانی میں

طبع دریا جو ہو آشفتہ تو پھر طوفاں ہے

آہ بالوں کو پراگندہ نہ کر پانی میں

غرق آب اشک سے ہوں لیک اڑا جاتا ہوں

جوں سمک گو کہ مرے ڈوبے ہیں پر پانی میں

مردم دیدۂ تر مردم آبی ہیں مگر

رہتے ہیں روز و شب و شام و سحر پانی میں

ہیئت آنکھوں کی نہیں وہ رہی روتے روتے

اب تو گرداب سے آتے ہیں نظر پانی میں

گریۂ شب سے بہت آنکھ ڈرے ہے میری

پاؤں رکتے ہی نہیں بار دگر پانی میں

فرط گریہ سے ہوا میرؔ تباہ اپنا جہاز

تختہ پارے گئے کیا جانوں کدھر پانی میں

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…