غزل1 منٹ کا مطالعہ

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

رنگینیٔ عشق اس کے ملے پر ہوئی معلوم

صحبت نہ ہوئی تھی کسی خونخوار سے اب تک

کب سے متحمل ہے جفاؤں کا دل زار

زنہار وفا ہو نہ سکی یار سے اب تک

ابرو ہی کی جنبش نے یہ ستھراؤ کیے ہیں

مارا نہیں ان نے کوئی تلوار سے اب تک

وعدہ بھی قیامت کا بھلا کوئی ہے وعدہ

پر دل نہیں خالی غم دیدار سے اب تک

مدت ہوئی گھٹ گھٹ کے ہمیں شہر میں مرتے

واقف نہ ہوا کوئی اس اسرار سے اب تک

برسوں ہوئے دل سوختہ بلبل کو موئے لیک

اک دود سا اٹھتا ہے چمن زار سے اب تک

کیا جانیے ہوتے ہیں سخن لطف کے کیسے

پوچھا نہیں ان نے تو ہمیں پیار سے اب تک

اس باغ میں اغلب ہے کہ سرزد نہ ہوا ہو

یوں نالہ کسو مرغ گرفتار سے اب تک

خط آئے پہ بھی دن ہے سیہ تم سے ہمارا

جاتا نہیں اندھیر یہ سرکار سے اب تک

نکلا تھا کہیں وہ گل نازک شب مہ میں

سو کوفت نہیں جاتی ہے رخسار سے اب تک

دیکھا تھا کہیں سایہ ترے قد کا چمن میں

ہیں میرؔ جی آوارہ پری دار سے اب تک

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…