Agar Ghafalt Se Baaz Aaya Jafa Ki

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی

تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

مرے آغاز الفت میں ہم افسوس

اسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی

کبھی انصاف ہی دیکھا نہ دیدار

قیامت اکثر اس کو میں رہا کی

فلک کے ہاتھ سے میں جا چھپوں گر

خبر لا دے کوئی تحت الثرا کی

شب وصل عدو کیا کیا جلا ہوں

حقیقت کھل گئی روز جزا کی

چمن میں کوئی اس کو سے نہ آیا

گئی برباد سب محنت صبا کی

کشاد دل پہ باندھی ہے کمر آج

نہیں ہے خیریت بند قبا کی

کیا جب التفات اس نے ذرا سا

پڑی ہم کو حصول مدعا کی

کہا ہے غیر نے تم سے مرا حال

کہے دیتی ہے بے باکی ادا کی

تمہیں شور فغاں سے میرے کیا کام

خبر لو اپنی چشم سرمہ سا کی

دیا علم و ہنر حسرت کشی کو

فلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی

غم مقصد رسی تا نزع اور ہم

اب آئی موت بخت نارسا کی

مجھے اے دل تری جلدی نے مارا

نہیں تقصیر اس دیر آشنا کی

جفا سے تھک گئے تو بھی نہ پوچھا

کہ تو نے کس توقع پر وفا کی

کہا اس بت سے مرتا ہوں تو مومنؔ

کہا میں کیا کروں مرضی خدا کی

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

View Full Profile →

More by Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…