Hum Samajhte Hain Azmaane Ko

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

عذر کچھ چاہیئے ستانے کو

سنگ در سے ترے نکالی آگ

ہم نے دشمن کا گھر جلانے کو

صبح عشرت ہے وہ نہ شام وصال

ہائے کیا ہو گیا زمانے کو

بوالہوس روئے میرے گریہ پہ اب

منہ کہاں تیرے مسکرانے کو

برق کا آسمان پر ہے دماغ

پھونک کر میرے آشیانے کو

سنگ سودا جنوں میں لیتے ہیں

اپنا ہم مقبرہ بنانے کو

شکوہ ہے غیر کی کدورت کا

سو مرے خاک میں ملانے کو

روز محشر بھی ہوش گر آیا

جائیں گے ہم شراب خانے کو

سن کے وصف اس پہ مر گیا ہمدم

خوب آیا تھا غم اٹھانے کو

کوئی دن ہم جہاں میں بیٹھے ہیں

آسماں کے ستم اٹھانے کو

چل کے کعبہ میں سجدہ کر مومنؔ

چھوڑ اس بت کے آستانے کو

نقش پائے رقیب کی محراب

نہیں زیبندہ سر جھکانے کو

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

View Full Profile →

More by Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…