Karta hai qatl-e-aam woh aghyaar ke liye
کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے
دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے
دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیے
عاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے
دل عشق تیری نذر کیا جان کیونکہ دوں
رکھا ہے اس کو حسرت دیدار کے لیے
قتل اس نے جرم صبر جفا پر کیا مجھے
یہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لیے
لے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ اب
تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لیے
آتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دے
تسکین اضطراب دل زار کے لیے
کیا دل دیا تھا اس لیے میں نے تمہیں کہ تم
ہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لیے
چلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدم
طرز خرام و شوخئ رفتار کے لیے
جی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوں
اظہار حال چشم گہربار کے لیے
دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثال
بوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے
جینا امید وصل پہ ہجراں میں سہل تھا
مرتا ہوں زندگانیٔ دشوار کے لیے
مومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بت
ڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لیے

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
View Full Profile →More by Momin Khan Momin
← Previous Ghazal
Tum bhi rehne lage khafa saahib
Next Ghazal →
Dar to mujhe kis ka hai ke main kuch nahin kehta