Sabr Wehshat Asar Na Ho Jaaye

صبر وحشت اثر نہ ہو جائے

کہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے

رشک پیغام ہے عناں کش دل

نامہ بر راہبر نہ ہو جائے

دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہ

غش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے

ہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیں

زندگی پردۂ در نہ ہو جائے

کثرت سجدہ سے وہ نقش قدم

کہیں پامال سر نہ ہو جائے

میرے تغییر رنگ کو مت دیکھ

تجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے

میرے آنسو نہ پونچھنا دیکھو

کہیں دامان تر نہ ہو جائے

بات ناصح سے کرتے ڈرتا ہوں

کہ فغاں بے اثر نہ ہو جائے

اے قیامت نہ آئیو جب تک

وہ مری گور پر نہ ہو جائے

مانع ظلم ہے تغافل یار

بخت بد کو خبر نہ ہو جائے

غیر سے بے حجاب ملتے ہو

شب عاشق سحر نہ ہو جائے

رشک دشمن کا فائدہ معلوم

مفت جی کا ضرر نہ ہو جائے

اے دل آہستہ آہ تاب شکن

دیکھ ٹکڑے جگر نہ ہو جائے

مومنؔ ایماں قبول دل سے مجھے

وہ بت آزردہ گر نہ ہو جائے

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

View Full Profile →

More by Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…