Woh kahan saath sulate hain mujhe
وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے
خواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے
اس پری وش سے لگاتے ہیں مجھے
لوگ دیوانہ بناتے ہیں مجھے
یا رب ان کا بھی جنازہ اٹھے
یار اس کو سے اٹھاتے ہیں مجھے
ابروئے تیغ سے ایما ہے کہ آ
قتل کرنے کو بلاتے ہیں مجھے
بے وفائی کا عدو کی ہے گلہ
لطف میں بھی وہ ستاتے ہیں مجھے
حیرت حسن سے یہ شکل بنی
کہ وہ آئینہ دکھاتے ہیں مجھے
پھونک دے آتش دل داغ مرے
اس کی خو یاد دلاتے ہیں مجھے
گر کہے غمزہ کسے قتل کروں
تو اشارت سے بتاتے ہیں مجھے
میں تو اس زلف کی بو پر غش ہوں
چارہ گر مشک سنگھاتے ہیں مجھے
شعلہ رو کہتے ہیں اغیار کو وہ
اپنے نزدیک جلاتے ہیں مجھے
جاں گئی پر نہ گئی جورکشی
بعد مردن بھی دباتے ہیں مجھے
وہ جو کہتے ہیں تجھے آگ لگے
مژدۂ وصل سناتے ہیں مجھے
اب یہ صورت ہے کہ اے پردہ نشیں
تجھ سے احباب چھپاتے ہیں مجھے
مومنؔ اور دیر خدا خیر کرے
طور بے ڈھب نظر آتے ہیں مجھے

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
View Full Profile →More by Momin Khan Momin
← Previous Ghazal
Dar to mujhe kis ka hai ke main kuch nahin kehta
Next Ghazal →
Ghairon pe khul na jaye kahin raaz dekhna