امیروں تک رسائی ہو چکی بس
امیروں تک رسائی ہو چکی بس
مری بخت آزمائی ہو چکی بس
بہار اب کے بھی جو گزری قفس میں
تو پھر اپنی رہائی ہو چکی بس
کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شب
بہت باہم لڑائی ہو چکی بس
نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سے
یہیں تک آشنائی ہو چکی بس
لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگی
غموں کی اب سمائی ہو چکی بس
برابر خاک کے تو کر دکھایا
فلک بس بے ادائی ہو چکی بس
دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولت
ہمارے ہاتھ آئی ہو چکی بس
دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایا
تری قدرت نمائی ہو چکی بس
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر
جہاں دے ٹک دکھائی ہو چکی بس
گلے میں گیروی کفنی ہے اب میرؔ
تمہاری میرزائی ہو چکی بس

میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از میر تقی میر
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…