دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا

دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا

آ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا

سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ

ہو سکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا

بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ

ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا

کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں

بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا

گرمی اس آتش کے پر کالے سے رکھے چشم تب

جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا

ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی

کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا

سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیا

بجھ ہی جاتے ہیں دیئے جس وقت سب روغن جلا

شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے

دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا

آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔ

دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

غزل

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

غزل

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…