Ghazal· 1 min read

Band-e-Qaba Ko Khooban Jis Waqt Wa Karenge

بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے

خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے

رونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دم

یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے

ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں

جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے

درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت

گوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے

آخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھی

ترسا بچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے

کچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہ

اس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے

عالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامت

تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے

دامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سے

جنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے

لائی تری گلی تک آوارگی ہماری

ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے

احوال میرؔ کیوں کر آخر ہو ایک شب میں

اک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

Ghazal

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

Ghazal

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

Ghazal

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

Ghazal

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

Ghazal

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…