Ghazal· 1 min read

Naalay Ka Aaj Dil Se Phir Lab Talak Guzar Hai

نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہے

ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے

اے حب جاہ والو جو آج تاجور ہے

کل اس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے

اب کی ہوائے گل میں سیرابی ہے نہایت

جوے چمن پہ سبزہ مژگان چشم تر ہے

اے ہم صفیر بے گل کس کو دماغ نالہ

مدت ہوئی ہماری منقار زیر پر ہے

شمع اخیر شب ہوں سن سر گذشت میری

پھر صبح ہوتے تک تو قصہ ہی مختصر ہے

اب رحم پر اسی کے موقوف ہے کہ یاں تو

نے اشک میں سرایت نے آہ میں اثر ہے

تو ہی زمام اپنی ناکے تڑا کہ مجنوں

مدت سے نقش پا کے مانند راہ پر ہے

ہم مست عشق واعظ بے ہیچ بھی نہیں ہیں

غافل جو بے خبر ہیں کچھ ان کو بھی خبر ہے

اب پھر ہمارا اس کا محشر میں ماجرا ہے

دیکھیں تو اس جگہ کیا انصاف داد گر ہے

آفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میں

جوں نخل خشک ہم کو نے سایہ نے ثمر ہے

کر میرؔ اس زمیں میں اور اک غزل تو موزوں

ہے حرف زن قلم بھی اب طبع بھی ادھر ہے

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

Ghazal

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

Ghazal

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

Ghazal

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

Ghazal

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

Ghazal

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…