Ghazal· 1 min read

Khatir Kare Hai Jama Woh Har Baar Ek Tarah

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

میں اور قیس و کوہ کن اب جو زباں پہ ہیں

مارے گئے ہیں سب یہ گنہ گار ایک طرح

منظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاں

کس سے ہوا دو چار وہ عیار ایک طرح

سب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیں

پر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح

گھر اس کے جا کے آتے ہیں پامال ہو کے ہم

کریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح

گہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بو

آتا نہیں نظر وہ طرح دار ایک طرح

نیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشنا

ممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح

سو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا

صحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح

سو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہم

تسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح

بن جی دئیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیں

گر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح

ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میرؔ کو

ہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

Ghazal

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

Ghazal

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

Ghazal

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

Ghazal

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Ghazal

گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا

برقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا

Gul sharm se beh jaye ga gulshan mein ho kar aab sa

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…