غزل· 1 منٹ کا مطالعہ
آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں
کہ کوئی دل جلا گڑا ہے یاں
ہر گھڑی دیکھتے جو ہو ایدھر
ایسا کہ تم نے آ نکلا ہے یاں
کیسے کیسے مکان ہیں ستھرے
اک سسکتا ہے ایک مرتا ہے
خانۂ عاشقاں ہے جاے خوب
جائے رونے کی جا بہ جا ہے یاں
کوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باش
آج تک کوئی بھی رہا ہے یاں
ہے خبر شرط میرؔ سنتا ہے
تجھ سے آگے یہ کچھ ہوا ہے یاں
کوہ کن کل ہی مر گیا ہے یاں
کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از میر تقی میر
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…