غزل· 1 منٹ کا مطالعہ

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

شکل تصویر بے خودی کب تک

کسو دن آپ میں بھی آئیے گا

سب سے مل چل کہ حادثے سے پھر

کہیں ڈھونڈا بھی تو نہ پائیے گا

نہ موئے ہم اسیری میں تو نسیم

کوئی دن اور باؤ کھائیے گا

کہیے گا اس سے قصۂ مجنوں

یعنی پردے میں غم سنائیے گا

اس کے پابوس کی توقع پر

اپنے تیں خاک میں ملایئے گا

اس کے پاؤں کو جا لگی ہے حنا

خوب سے ہاتھ اسے لگایئے گا

شرکت شیخ و برہمن سے میرؔ

کعبہ و دیر سے بھی جائیے گا

اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجد

کسی ویرانے میں بنایئے گا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

غزل

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

غزل

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

غزل

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

غزل

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

غزل

گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا

برقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا

Gul sharm se beh jaye ga gulshan mein ho kar aab sa

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…